Tuesday, 18 June 2019

بونوں کا معاشرہ


مرشد جون نے کہا تھا "یہ بونوں کا معاشرہ ہے"


میں اکثر یہ سوچتا ہوں کہ اِتنے بڑے بڑے ناموں کے بیچ بھی جون کیسے اپنے آپکو بونا محسوس کرتے تھے یا پورے معاشرے کو بونا کہنا.. 

اگر وہ اِس عہد میں ہوتے تو کیا محسوس کرتے؟
ہم اجتماعی طور پر گھٹیا اور اسط درجے سے نیچے کے لوگ ہیں
ذہنی پستی و کم فہمی کیساتھ ساتھ بے انتہا قسم کی ڈھٹائی بھی ہم میں کُوٹ کُوٹ کر بھر چکی ہے
ہم وہ لوگ ہیں جو اپنے پستہ سوچ اور کم ظرفی سے بخوبی واقف ہیں اور اِس پر فخر کرتے ہیں..

کتابوں کی جگہ tiktok ، dubsmash, Instagram, YouTube نے لے لی ہے.. 

ہم ڈگری سے لدے گدھے بنا رہے ہیں ، ڈگری holder جاہل پیدا کرے رھے ہیں ہم ، جو ایک کنویں کے مینڈک ہیں اور اخلاق ، گفتار ، میں کوئی ملکہ نہیں رکھتے بلکہ اپنے آپکو عقلِ کُل سمجھتے ہیں..


یہی حال ہر شعبے میں ہے اب وہ ادب ہو ، سیاست ہو یا فن ہو.. 
ہر جگہ پستہ قامت انسانوں کے نمونے دیکھنے کو ملیں گے..

دلوں کو جوڑنے والے ، لوگوں کو جوڑنے والے ، فرق ختم کرنے والے ، لوگوں کو قریب لانے والے  نہ علماء رھے نہ سیاستدان ..

ہر طرف جیسے مار دو پکڑ لو ، کافر کافر ، لٹیرا ، چور ڈاکو کی آوازیں ہیں..

علماء اپنا تعمیری کام بھول کر فرقہ واریت کو ہوا دے رہے ہیں اور سیاستدان صرف اپنے حریفوں کو گالیاں دینے میں مصروف..
جون کا زمانہ بونوں کا معاشرہ تھا تو یہ زمانہ تو یقیناً "حشرات" کا ہوا..

کیڑے مکوڑوں کا زمانہ جو ہیہئت کے اعتبار سے انسان ہیں بس!

بلاشبہ ہم اجتماعی طور پر عقل، فکر ، سمجھ اور معاشرتی طور پر انحطاط کا شکار ہیں‫ اور شعور و فکر نام جیسی دولت کی شدید قلت کا شکار ہیں ، ہماری انسان ہونے کی واحد دلیل اگر کوئی باقی رہ گئی ہے تو وہ یہ کہ "ہم جگہ گھیرتے ہیں"




No comments:

Post a Comment