Thursday, 5 September 2019

6September - Day that reshaped Pakistan




6 September 1965 was the day which was the catalyst to fully turn Pakistan into a 'security state' instead of a social welfare state.


Pakistan lost all wars against India, but our fake patriotism demands us to celebrate the stupidity & irresponsibility of power-hungry Generals instead of holding them responsible for these 
failures.

Operation Gibraltar was executed by Pakistani army to try and bring some traction to the Kashmir cause by infiltration in IOK and force India to the conference table without provoking general war.

Pakistani establishment wasn't prepared for the war, didn't anticipate Indian forces to cross the Wagah Border and start a full-blown war.

This miscalculation resulted in heavy fatalities near BRB Canal (Barki region) where Major Aziz Bhatti was martyred in fierce fighting against Indian army.

Operation Gibraltar due to two major assumptions Pakistani army made

1) Establishment based this Operation to be use the resentment element on the ground and turn it into a full-fledged armed revolt against India in Kashmir
2) Second assumption was that India will never risk starting all-out war.

Both assumptions made by Pakistani army proved to be wrong

Both assumptions were proven wrong when on #6September India attacked Pakistan across the international border without a warning or a declaration of war in retaliation of Operation Gibraltar.

This war further gave birth to in-house Mujahideen groups like Laskhar-e-Tayyaba & Jaish e Muhammad. It pretty much became part of Pakistan's covert foreign policy fully managed by establishment of the country till Musharraf rose to power and banned all these groups.


Operation Gibraltar was a failure and 6 September should have been the day to analyse & learn from our mistakes. Instead, it became the day our country became a hostage to military quarters, since 1965 war all our foreign policy decisions were taken by establishment of the country and civilian rulers were only used as a cover. 



Friday, 9 August 2019

مودی کو پاکستانی حکومت کا منہ توڑ جواب

رات کے پچھلا پہر تھا
ہُو کا عالم تھا
ایسے میں "ایف ڈبلیو او" کے دفتر کا فون بجا
دوسری طرف سے سخت آواز میں ایک شخص مخاطب ہوا
"کرینیں کتنی دستیاب ہیں؟"

"آفیسر: "جناب 3/4 کا بندوبست ہو سکتا ہے
"کال کرنے والا :" باقی کرینیں کہاں ہیں؟
"آفیسر :"جناب ، وہ تو کرتارپور میں زیرِ استعمال ہیں
"کال کرنے والا :" بےغیرتو!  ساری کرینیں وہاں لگا دیں؟

آفیسر : جناب وزیراعظم صاحب اور 
سپہ سالار کا سخت حکم تھا کہ جلد از جلد کام مکمل ہونا چاہئے ،    ہماری سالمیت کا سوال ہے

کال کرنے والا: " اچھا اچھا ٹھیک ہے، جتنی بھی کرینیں ہیں وہ اکٹھی کرو اور جاتی عمرہ کا رخ کرو ، ساتھ میں نفری اور کنٹینرز بھی لے جانا ‫" 

"آفیسر : " جناب ادھر کیا بنانا ہے؟
کال کرنے والا : " بنانا نہیں ، گرانا ہے ، جو چار دیواری بنی ہے گرا دو"
آفیسر: " جناب آپ کہہ رہے ہیں کہ تین بار منتخب وزیراعظم کے گھر کی چار دیواری گرا دیں؟"
"کال کرنے والا : " ہاں یہی کہہ رہا ہوں
اس گفتگو کیبعد مورخ نے دیکھا کہ حکومت کی پوری مشینری حرکت میں آئی

....مودی کو جواب دینے کا اس سے بہترین انداز کوئی نہیں ہوسکتا تھا 


میں عمران نیازی کی اس سوچ اور نظریے کو سلام پیش کرتا ہوںواقعی ایک آفاقی سوچ کا حامل شخص ہی ایسا قدم اٹھا سکتا تھا جیسا عمران خان نے اٹھایا


 دس اگست کو یہ آپریشن انجام پا رہا تھا.....جبکہ  پانچ اگست کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو تین حصوں میں تقسیم کر کے بھارت ‫‫میں ضم کر لیا

اور رات کے اس پہر پاکستانی حکومت نے جواباً کاروائی کا فیصلہ کیا اور مودی کے "یار" کے گھر پر چڑھائی کرنے کا فیصلہ کیا
شاید ہمارے جوانوں کے بس میں یہی تھا ، مودی کے دانت کھٹے کرنے کا راستہ جاتی عمرہ سے ہو کر جاتا تھا

مودی سوچ بھی نہی سکتا ہو گا کہ  کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کے جواب میں عمرانی حکومت مودی کے یار کے گھر پر ہلّہ بول دے گا

مودی کے یار اور اُس کی بیٹی کو اِس حکومت نے پہلے ہی جیل میں ڈال رکھا تھا


ہر اول دستے کے فرائض "ایف ڈبلیو او" انجام دے رہا تھا جو پاکستانی فوج کا انجینئرنگ وِنگ ہے ، ہدف جاتی عمرہ تھا
تمام چینلز کو اطلاع دے دی گئی کہ محاز فتح ہونے کی کوریج کرنے کیلئے وقوعے کی جگہ پر پہنچ جائیں 
...کرینیں اپنے مقام پر لگ چکی تھیں ، پے درپے ضربیں لگنا شروع ہوئیں

ہوا اللہ اکبر کی صداؤں سے گونج اٹھی  
ایف ڈبلیو او کے جانباز سپاہی و ٹھیکیداران اپنے جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے میدان میں کود پڑے

چار دیواری سے اکٹھی ہونے والی اینٹیں ٹرکوں میں لوڈ کروانے لگے تاکہ یہ اینٹیں کرتارپور راہداری کی بنیادوں میں لگیں اور بھارت کو بھرپور جواب دیا جا 
سکے


Tuesday, 18 June 2019

بونوں کا معاشرہ


مرشد جون نے کہا تھا "یہ بونوں کا معاشرہ ہے"


میں اکثر یہ سوچتا ہوں کہ اِتنے بڑے بڑے ناموں کے بیچ بھی جون کیسے اپنے آپکو بونا محسوس کرتے تھے یا پورے معاشرے کو بونا کہنا.. 

اگر وہ اِس عہد میں ہوتے تو کیا محسوس کرتے؟
ہم اجتماعی طور پر گھٹیا اور اسط درجے سے نیچے کے لوگ ہیں
ذہنی پستی و کم فہمی کیساتھ ساتھ بے انتہا قسم کی ڈھٹائی بھی ہم میں کُوٹ کُوٹ کر بھر چکی ہے
ہم وہ لوگ ہیں جو اپنے پستہ سوچ اور کم ظرفی سے بخوبی واقف ہیں اور اِس پر فخر کرتے ہیں..

کتابوں کی جگہ tiktok ، dubsmash, Instagram, YouTube نے لے لی ہے.. 

ہم ڈگری سے لدے گدھے بنا رہے ہیں ، ڈگری holder جاہل پیدا کرے رھے ہیں ہم ، جو ایک کنویں کے مینڈک ہیں اور اخلاق ، گفتار ، میں کوئی ملکہ نہیں رکھتے بلکہ اپنے آپکو عقلِ کُل سمجھتے ہیں..


یہی حال ہر شعبے میں ہے اب وہ ادب ہو ، سیاست ہو یا فن ہو.. 
ہر جگہ پستہ قامت انسانوں کے نمونے دیکھنے کو ملیں گے..

دلوں کو جوڑنے والے ، لوگوں کو جوڑنے والے ، فرق ختم کرنے والے ، لوگوں کو قریب لانے والے  نہ علماء رھے نہ سیاستدان ..

ہر طرف جیسے مار دو پکڑ لو ، کافر کافر ، لٹیرا ، چور ڈاکو کی آوازیں ہیں..

علماء اپنا تعمیری کام بھول کر فرقہ واریت کو ہوا دے رہے ہیں اور سیاستدان صرف اپنے حریفوں کو گالیاں دینے میں مصروف..
جون کا زمانہ بونوں کا معاشرہ تھا تو یہ زمانہ تو یقیناً "حشرات" کا ہوا..

کیڑے مکوڑوں کا زمانہ جو ہیہئت کے اعتبار سے انسان ہیں بس!

بلاشبہ ہم اجتماعی طور پر عقل، فکر ، سمجھ اور معاشرتی طور پر انحطاط کا شکار ہیں‫ اور شعور و فکر نام جیسی دولت کی شدید قلت کا شکار ہیں ، ہماری انسان ہونے کی واحد دلیل اگر کوئی باقی رہ گئی ہے تو وہ یہ کہ "ہم جگہ گھیرتے ہیں"




Wednesday, 22 May 2019

زینب سے فرشتہ تک - سفاک و دندرہ صفت ہم!

کیا لکھوں؟
فرشتہ تمہارا کیوں نوحہ لکھوں؟

زینب ہو یا فرشتہ ہم بحیثیت معاشرہ گل سڑ چکے ہیں اور ہمیں اپنے اس گلی سڑی لاش سے نہ تو تعفن کا احساس ہوتا ہے نہ 
ہم اس کے کھوکھلا پن کا اعتراف کرنے کیلیے تیار ہیں

ہمدردی ، دردمندی ، درد شناسی کے جزبات سے عاری ایک ہجعم ہیں ہم جنہیں مخالف کے ناک پر بیٹھی مکھی بھی نظر آتی ہے اگر نہیں نظر آتے تو اپنے بدبودار ، انسانیت سوز رویے اور ریاستی طور پر خون میں لت پت ہاتھ 

ہم مدینہ ثانی کے باسی
ہم اسلام کے ناقابلِ تسخیر قلعہ کے سپاہی
ہم بھارت میں لٹتی ہر عصمت پر تنقید کرنے والے
اپنے ملک میں جاری اس درندگی کیخلاف ہماری زبانیں گنگ

مجھے یہ لکھتے ہوئے عجیب تکلیف کا سامنا ہے اور دعا ہے کہ یہ جھوٹ ہی ہو مگر سچ یہی ھے اس معاشرے کو دیمک 
اندر تک چاٹ چکی ہے

ہم صرف اور صرف"میں" کا بوجھ اٹھائے زندہ ہیں


وہ معاشرہ جو اپنے آپ کو مغرب سے کہیں بہتر کہتا ہو اور اسلام کا گہوارہ ، ریاستِ مدینہ کہلوانے پر مصر ہو اُس معاشرے میں اگر یکے بعد دیگرے زینب و فرشتہ جیسے واقعات رونما ہوں تو میں یہی کہوں گا کہ اس معاشرے کے علماء یا تو نہایت منافق و بےاثر زبان کے مالک ہیں جن کی تبلیغ کانوں سے نیچے نہیں جاتی یا پھر  انسانیت کا دین سے کوئی سروکار نہیں اور ایک لادین معاشرہ دراصل اسلام کی اصل روح کا پاسبان ھے
ہم تو فقط لفظوں کی حد تک "ٹھیکہ دارانِ اسلام" ہیں 

ایک اسلامی معاشرہ ،مسجدوں مدرسوں سے محصور ملک میں بھی معصوم کی آہ و بکا سننے والا کوئی نہیں


 ساہیوال میں کنبہ بھون دیا جاتا ہے حاکمِ وقت کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی  ہم بحیثیت قوم و معاشرہ اخلاقی و سماجی پستی کی اُن گہرائیوں کو چُھو رہے جس میں بہتری ہوتی نظر نہیں آتی...

سلام ہے مغرب کے اُس معاشرے کو جہاں مسلمان بیٹیوں کی عزتیں محفوظ ہیں اور لعنت ھے ایسے اسلامی معاشرے پر جہاں مسلمانوں کی بیٹیاں ہی لوٹی جاتی ہیں اور کہا جاتا ھے وہ تو "افغانی" تھی 


ہم یہاں اپنی بیٹیوں کی عصمتیں خود ہی تار تار کرنے میں مصروف ہیں اور یہ عمل کرنے کیبعد ہم کہتے ہیں وہ تو پاکستانی تھی ہی نہیں

ظالمو!  انسان تو تھی ؟؟



Monday, 6 May 2019

تبدیلی کا پہلا رمضان

میرے پیارے پاکستانیوں میں دل کی اتھاہ گہرائیوں سے آپکو ماہِ رمضان کی مبارکباد پیش کرتا ہوں

 یہ ماہ انشاءاللہ ایک تاریخی رمضان ہو گا جس کا آغاز میں ہی کپتان نے سٹیٹ بینک کا گورنر آئی ایم ایف کا نمائندہ لگا دیا ھے

میں پورے وثوق کیساتھ یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ اس رمضان تبدیلی کے ثمرات طفیلِ نیازی بہ دستِ باجوہ آپ پر ایسے گریں گے جیسے چور کو رنگے ہاتھوں پکڑا جانے پر "لِتّر" پڑتے ہیں 
آپ پر تبدیلی کے فیوض و برکات ایسے وارد ہوں گے کہ آپ کی "خاموش چیخیں" نکلیں گی مگر آپ کسی کو زخم دکھانے یا حالتِ زار بتانے کے قابل نہ ہوں گے

 ! ہر شے کے نرخ بڑھیں گے اگر نہیں بڑھے گی تو وہ آپکی تنخواہ
مگر پاکستانیوں آپنے گھبرانا بالکل نہیں ھے

حالتِ روزہ میں ہونے کے باوجود آپکا دل کرے گا کہ آپ تبدیلی کے موجد اور تبدیلی کے پیروکاروں کو لعن طعن کریں


لیکن اگر آپکا تعلق واوڈا و مراد سعید والے طبقے سے ہو گا تو پھر تو آپ ڈھٹائی و بیحسی اور اندھے اعتقاد کے اُِس درجے پر فائض ہونگے
  جہاں آپ کو کپتان کا فاضل مادہ بھی من و سلوی دِکھتا ھے

ایک طبقہ ایسا ھے جو کھپتان کے ڈھلتے بڑھاپے سے اتنا متاثر ھے کہ اُنکو اور کسی شے سے سروکار ہی نہیں اور ہر سوال کا ایک ہی   جواب ہوتا ھے کہ ہمارا کپتان کتنا ہینڈسم ھے 

ایک طبقہ ایسا بھی ھے ، جو پٹرول کی قیمت بڑھنے ، بجلی و گیس کے نرخوں میں اضافے ، پھل و کھجور کے نرخ میں اضافے ، اناج ، چاول کی ذخیرہ اندوزی اور کپتان کے پیچش کا ذمہ دار بھی نوازشریف کو ٹھہرائے گا

مختصراً اِس رمضان میں تبدیلی کی برکات پاکستانیوں پر ایسے گریں گی کہ سنبھالنا مشکل ہو جائے گا اور چوتھے عشرے تک تبدیلی کے اثرات چہروں پر واضع نمایا ہوں گے..

آخر میں رب سے دعا ہے کہ ہماری ناقص عبادات , دکھاوے کے صدقات اور حسد سے بھری مسکراہٹوں کو اپنی بارگاہ میں قبول کرے 
آمین