Sunday, 26 December 2021

دنیا ، اسباب اور ایمان

(دنیا ، اسباب اور ایمان)

دنیا دار الاسباب ہے ، ربِ کائنات نے ہر ذی روح کیلیے انعام و اکرام اُسکی محنت اور کاوش کے حساب سے دیا ہے
اور دنیاوی نفع ، نقصان یا غلبے کیلیے قوتِ ایمانی کبھی بھی لازم نہیں رہی ، اگر ہوتی تو قیصر و قصرہ ، فرعون کبھی بھی طاقتور نہ ہوتے

اور تاریخِ بنی نوع انسان میں صرف رب کی وحدانیت پر یقین رکھنے والے ہی بادشاہت و طاقت کا منبع ہوتے ایسا بلکل بھی نہیں

جب تک مسلمانوں میں جابر بن حیان ، خوارزمی ، ابنِ سینا ، ابنِ خلدون جیسے تحقیق کرنے والے پیدا ہوتے رہے مسلمان ہر دوڑ میں آگے رہے چاہے وہ سائینسی ہو جغرافیائی ہو یا طب ہو...

تحقیق کی ، تو پھل ملا ، محنت کی تو ثمر پایا بنا کسی تفریقِ ایمان و کفر کے

قرآن کی آیت ہے

وَانْ لّیْس لِلْانسَان اِلَّا مَا سَعٰى

اور یہ کہ انسان کیلئے وہی ہوگا
جس کی اس نے کوشش کی

رب نے تمام اصول واضح کر دیے

اور جب مسلمانوں نے تحقیق ، علم کو خیرباد کہہ دیا اور کافر نے علم ، تحقیق ، جدد کو اپنایا نئے علوم کو فروغ دیا تو نتیجہ یہ ہوا کے رب نے مسجد الاقصی بھی آپ کے دشمن کو دے دی...

دیکھیں ، وحی کا سلسہ تمام ہوا ، آسمانے صحیفے آنا بند ہو چکے ، اب آسمان سے زمینی رابطہ بالسان منقطع ہو چکا ، بدر واحد معرکہ تھا جب فرشتوں کی مدد بالواسطہ آئی

اب اس زمین پر بنی نوع انسان کیلیے صرف وہی ہے جس کی وہ تگ و دو کرتا ہے ، رب اپنے قوانین میں ترمیم نہیں کرتا ، پھل اُسی کا ہے جس کی محنت ہے اب وہ پھر ہم‫ جنس پرست Steve jobs ہو یا پھر صیہونی بینجمن نیتن یاہو ہو...جو بیت المقدس پر قابض ہو

پانچ وقت نماز بیشک مومن کی معراج ہے مگر دین کیساتھ دنیا کے اسباب اختیار کرنا بھی اُتنا ہی لازم ہے جتنا رب پر ایمان رکھنا..اگر ایسا نہ ہوتا تو سرورِ کونین کبھی غزوات کیلیے اپنے ساتھیوں سے مدد نہ لیتے بلکہ دعا کرتے اور سب کافر غارت ہو جاتے ہے..

ربِ کائنات لاغر ، کمزور اور جاہل مومن کیساتھ نہیں
بلکہ ربِ کائنات عاقل ، محقق کافر کو پھل سے نوازتا ہے

مسلمانوں اب فرشتے مدد کو نہیں اتریں گے
اب صرف اور صرف وہی ہاتھ آئے گا جِس کیلیے محنت کرو گے




 

Sunday, 1 August 2021

سب سے مشکل کام

 اس دنیا کا سب سے مشکل کام کیا ہے؟ 

سب سے مشکل کام روشنی پا کر اُسکو اپنانا ہے

 

اپنے اندر کے اندھیروں کو ختم کر کے تاریکی سے نکلنا سب سے مشکل اور کٹھن کام ہے

 

تمام عمر جھوٹ پر زندہ رہ کر ، اُسکو چھوڑنا سب سے مشکل کام ہے 

سب سے آسان کام؟
اپنے آباء کی تقلید ہے
یہی تو مشرکینِ مکہ نے کیا

 

وہ کہتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ بیشک صادق ہیں ، راست گو اور ہمیں معلوم ہے کہ آپ جو کہہ رہے ہیں وہ حرف بہ حرف حق ہے مگر ہم آپکے سچ کو تسلیم کیسے کر لیں 
ہم اس تقلید کا کیا کریں جو ہمارے آباء کی ہے ، ہم اس سب کو رد نہیں کر سکتے ہے

 

یہی سب سے آسان کام ہے
تحقیق نہ کرنا سب سے آسان کام ہے
اپنے جھوٹ کیساتھ زندہ رہنا سب سے آسان کام ہے

 

یہی کام ہم سب کہیں نہ کہیں کیے جا رہے ہیں اور کئی باتوں ، امور پر صرف اس وجہ سے قائم ہیں کہ وہ ہمارے آباء کا طریقہ تھا 

 

یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ غلط ہے
خدا ہم سب کو حق شناس بننے اور حق کو حق جان کر اُسکو تسلیم کرنے اوت ڈٹے رہنے کا حوصلہ اور ہمت دے
آمین


Truth


 

 

Saturday, 15 May 2021

میرا بچپن مرتا جا رہا پے...

 میں خود ایک تیزگام کا مسافر انجانی منزل کو رواں دواں ہوں

پٹڑی کہاں ختم ہو گی  ، مسافت طے ہونے پر اسٹیشن کا کیا منظر ہو گا کچھ معلوم نہیں.. 


انکل سرگم ، ماسی مصیبتے ، ہیگا کے خالق 

فاروق قیصر صاحب جس تیزگام کے مسافر تھے وہ جانے کتنے سٹیشنوں سے ہوتے ہوئے بالآخر ایک نامعلوم مقام پر رک گئی.. 


یوں میرے بچپن کی ایک اور یاد مٹی کے سپرد ہوئی


جمیل فخری ، معین اختر ، طارق عزیز ، ببو برال ، امان الله اور اب انکل سرگم


!خدا غریق رحمت کرے


 میری عمر کیا ہے ، یہ ادراک نہیں

میرا بچپن مرتا جا رہا ہے 




Saturday, 24 April 2021

دین احساس کا نام ہے یا مسلمانیت کا؟

‏میں تب بھی افسردہ ہوتا ہوں جب کشمیر میں کسی مسلمان عورت کی بھارتی فوج کے ہاتھوں عصمت دری ہوتی یے

مجھے تب بھی دکھ ہوا جب دولتِ اسلامیہ کے "مجاہدوں" کے ہاتھوں یزیدی عورتیں حاملہ ہوئیں ، مجھے فلسطین میں یہودیوں کے ہاتھوں غزہ کی پٹی میں محصور مسلمانوں کا بھی درد ہے 

‏مجھے چائنہ کے ہاتھوں ایغور مسلمانوں کے استحصال پر بھی دکھ ہوتا ہے

مجھے ہزارہ قوم کی لاشیں دیکھ کر بھی رونا آتا ہے اور شام میں انسانیت کو پامال ہوتے دیکھ کر بھی رنج ہوتا ہے


مجھے یمن میں سعودی حکومت کے عتاب کا نشانہ بنتے یمنی بچوں کا بھی درد محسوس ہوتا ہے 


‏اور اب میں ہندوستان میں کرونا کی وبا میں مبتلا ہندووں کی کسمپرسی اور اموات دیکھ کر بھی شدید رنجیدہ ہوا


شمشان گھاٹ شاید اتنے کربناک کبھی نہیں دکھے ہوں جتنے اب دِکھے


کیا میری مسلمانیت ہندووں کی ایسی اموات دیکھ کر رنجیدہ ہونے پر قائم رہی ہو گی؟


معلوم نہیں , مگر ‏ہمارا تو حاصلِ زندگی ہی احساس ہے


کئی جید علماء کرونا کے آغاز میں یہ دعا مانگ رہے تھے کہ 

"اے اللہ مشرکین کی طرف اس کا رُخ موڑ دے اور اُن کا بیڑہ غرق فرما"


مگر رب کی "کُن" کو بھی شاید کچھ اور منظور تھا


‏خادم رضوی مرحوم نے تو یہ تک فرمایا کہ چین پر مسلمانوں کے اوپر مظالم کیوجہ سے یہ عزاب ہے اور اِن کا خانہ خراب ہو گا


پھر یہ ہوا کہ یہ وبا اسرائیل کے یہودیوں کا تو کچھ نہیں بگاڑ سکی البتہ یورپی لادینیوں کو تہ و تیغ کر ڈالا


‏اے تمام جہانوں کے پالنے والے رب 

 اے رحمت اللعالمین کے رب 

مجھے معاف فرمانا کہ مجھ سے کسی بھی

 "ذی رُوح" کی تکلیف نہیں دیکھی جاتی ، چاہے وہ حشرات الارض ہو یا اشرف المخلوقات ہو


چاہے وہ تیری عبادت کرنے والا صالح ہو یا 

بھگوان پر چڑھاوے چڑھانے والا کافر ہو


‏اے ربِ ابراہیم رحم فرما

ہم سب پر ، کافر پر پہلے اور مجھ عاصی پر بعد میں

 کیونکہ تُو تو تمام جہانوں کا رب ہے!

یا ربنا ارحم لنا




سب سے مشکل کام

Thursday, 21 May 2020

Naseem Hijazi to Ertugrul - Saga of Imported saviours


As a Pakistani nation, we suffer from a severe identity crisis, We don't own our people but love to hear the stories of saviours invading subcontinent to bless us with Islam 


We love carving out new idols, every few yrs or so from Muhammad bin Qasim, Yousaf bin Tashfin to General's pet called Zorro and now Ertugrul Gazi. we've definitely come far.



Don't get me wrong, I've watched all the seasons of Ertugrul and thoroughly enjoyed the cinematography, story twists, characterization and it was kind of Halal-ish replacement to  Game of Thrones.

But I watched as work of fiction which 'revolved' around a bit of history the way you'd watch any season on Netflix or Amazon Prime.


It's in so many ways so similar to work of fiction by well-known writer of Naseem Hijazi.



Naseem Hijazi was a Pakistani writer who really mastered the art of Historical fiction and it was sold to the masses as being gospel, I remember a relative recommended me his books during my teenage stating it's Islamic history.

In stock of my school Library, Naseem Hijazi was definitely the most read author during my teenage, You could never find any book in stock it to borrow.


Truth is much stranger than fiction itself but when you mix it up with a blend of religious spices, let it simmer on the heat of young blood top it up with some prophecies, then BOOM.


You have a mindless robot willing to blow himself up anywhere for the sake of a purpose that's larger than life.

This was what the majority of Hijazi's work was like - We all like to dwell in past and tell our kids stories about the time gone and every Nation does it. However Pakistani Hybrid regime definitely has mastered the art to some extent.

Muhammad Bin Qasim, Khaak Aur Khoon, Aakhri Maarka (The last battle of Somnath), Aur Talwar Toot Gayi were absolute masterpieces in the genre of "Historical fiction" for Urdu readers.

Much of Hijazi's work was dramatised in Pakistan and a whole generation was born with a mind-set that paved the way for socially awkward boys to fantasize about characters similar to "Halime Sultan" and wanting to wage jihad against evil forces of West. 

It all fitted in very well with the backdrop of the Afghan-Soviet war, timing was crucial. 
But as Pakistanis, we love living in new delusions and fantasies every now n then. 
Also, it was well-timed too as many "5thiye" (5th Gen warfare Twitterati trolls) just recovering from Ehd-e-Wafaa now have their newfound love Ertugrul.


After airing of Ertugrul season, majority Pakistani believe that Erdogan is the reincarnation of Ertugrul and all it takes is a bit of Youtube search to see many videos of pseudo-anchors and media analysts turned historians talking about prophecies how Erdogan shall rise and 2023 is the year Turkey will take back control of Hijaz.


Whether its Mubashir Luqman, Sabir Shakir or official Mullah Maulana Tariq Jamil everyone is portraying launch of Ertugrul as Turk-Pak alliance of some sort which will bring back the glorious days of past.




They don't just stop there - there's been memes/videos in circulation comparing the dissenting intellectuals/community with negative characters of Ertugrul and calling for them to be beheaded in same fashion how Ertugrul handled the betrayal.

Literally free for all business, ranging from Ertugrul and antichrist being linked to Ghazwa Hind, Erdogan being Ertugrul of the time and Pak-Turk alliance (which is non-existent and recent fiasco of Imran Khan bending over backwards to fall into the lap of MBS) touching new horizons in 2023!

In a nutshell, I'm rather sad to see the Hybrid regime of Pakistan turning a Turkish historical fictional saga of Ertugrul into a full-blown propaganda indoctrination tool for which I can only thank #Selectors as surely Imran Khan Niazi or his team wouldn't have had half the brain to come up with such stunt.

A hero or not but I'm sure Ertugrul never dreamt that his character or legacy would be used by Pakistani regime to try and cover up the failures thousands of kilometres away from his homeland.

Let's see after Ehd-e-Wafa and Urdu dubbing of Ertugrul what new indoctrination/misdirection tool is deployed as Gen Asim Saleem Bajwa is back and with a vengeance.