Friday, 9 August 2019

مودی کو پاکستانی حکومت کا منہ توڑ جواب

رات کے پچھلا پہر تھا
ہُو کا عالم تھا
ایسے میں "ایف ڈبلیو او" کے دفتر کا فون بجا
دوسری طرف سے سخت آواز میں ایک شخص مخاطب ہوا
"کرینیں کتنی دستیاب ہیں؟"

"آفیسر: "جناب 3/4 کا بندوبست ہو سکتا ہے
"کال کرنے والا :" باقی کرینیں کہاں ہیں؟
"آفیسر :"جناب ، وہ تو کرتارپور میں زیرِ استعمال ہیں
"کال کرنے والا :" بےغیرتو!  ساری کرینیں وہاں لگا دیں؟

آفیسر : جناب وزیراعظم صاحب اور 
سپہ سالار کا سخت حکم تھا کہ جلد از جلد کام مکمل ہونا چاہئے ،    ہماری سالمیت کا سوال ہے

کال کرنے والا: " اچھا اچھا ٹھیک ہے، جتنی بھی کرینیں ہیں وہ اکٹھی کرو اور جاتی عمرہ کا رخ کرو ، ساتھ میں نفری اور کنٹینرز بھی لے جانا ‫" 

"آفیسر : " جناب ادھر کیا بنانا ہے؟
کال کرنے والا : " بنانا نہیں ، گرانا ہے ، جو چار دیواری بنی ہے گرا دو"
آفیسر: " جناب آپ کہہ رہے ہیں کہ تین بار منتخب وزیراعظم کے گھر کی چار دیواری گرا دیں؟"
"کال کرنے والا : " ہاں یہی کہہ رہا ہوں
اس گفتگو کیبعد مورخ نے دیکھا کہ حکومت کی پوری مشینری حرکت میں آئی

....مودی کو جواب دینے کا اس سے بہترین انداز کوئی نہیں ہوسکتا تھا 


میں عمران نیازی کی اس سوچ اور نظریے کو سلام پیش کرتا ہوںواقعی ایک آفاقی سوچ کا حامل شخص ہی ایسا قدم اٹھا سکتا تھا جیسا عمران خان نے اٹھایا


 دس اگست کو یہ آپریشن انجام پا رہا تھا.....جبکہ  پانچ اگست کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو تین حصوں میں تقسیم کر کے بھارت ‫‫میں ضم کر لیا

اور رات کے اس پہر پاکستانی حکومت نے جواباً کاروائی کا فیصلہ کیا اور مودی کے "یار" کے گھر پر چڑھائی کرنے کا فیصلہ کیا
شاید ہمارے جوانوں کے بس میں یہی تھا ، مودی کے دانت کھٹے کرنے کا راستہ جاتی عمرہ سے ہو کر جاتا تھا

مودی سوچ بھی نہی سکتا ہو گا کہ  کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کے جواب میں عمرانی حکومت مودی کے یار کے گھر پر ہلّہ بول دے گا

مودی کے یار اور اُس کی بیٹی کو اِس حکومت نے پہلے ہی جیل میں ڈال رکھا تھا


ہر اول دستے کے فرائض "ایف ڈبلیو او" انجام دے رہا تھا جو پاکستانی فوج کا انجینئرنگ وِنگ ہے ، ہدف جاتی عمرہ تھا
تمام چینلز کو اطلاع دے دی گئی کہ محاز فتح ہونے کی کوریج کرنے کیلئے وقوعے کی جگہ پر پہنچ جائیں 
...کرینیں اپنے مقام پر لگ چکی تھیں ، پے درپے ضربیں لگنا شروع ہوئیں

ہوا اللہ اکبر کی صداؤں سے گونج اٹھی  
ایف ڈبلیو او کے جانباز سپاہی و ٹھیکیداران اپنے جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے میدان میں کود پڑے

چار دیواری سے اکٹھی ہونے والی اینٹیں ٹرکوں میں لوڈ کروانے لگے تاکہ یہ اینٹیں کرتارپور راہداری کی بنیادوں میں لگیں اور بھارت کو بھرپور جواب دیا جا 
سکے


No comments:

Post a comment