Wednesday, 22 May 2019

زینب سے فرشتہ تک - سفاک و دندرہ صفت ہم!

کیا لکھوں؟
فرشتہ تمہارا کیوں نوحہ لکھوں؟

زینب ہو یا فرشتہ ہم بحیثیت معاشرہ گل سڑ چکے ہیں اور ہمیں اپنے اس گلی سڑی لاش سے نہ تو تعفن کا احساس ہوتا ہے نہ 
ہم اس کے کھوکھلا پن کا اعتراف کرنے کیلیے تیار ہیں

ہمدردی ، دردمندی ، درد شناسی کے جزبات سے عاری ایک ہجعم ہیں ہم جنہیں مخالف کے ناک پر بیٹھی مکھی بھی نظر آتی ہے اگر نہیں نظر آتے تو اپنے بدبودار ، انسانیت سوز رویے اور ریاستی طور پر خون میں لت پت ہاتھ 

ہم مدینہ ثانی کے باسی
ہم اسلام کے ناقابلِ تسخیر قلعہ کے سپاہی
ہم بھارت میں لٹتی ہر عصمت پر تنقید کرنے والے
اپنے ملک میں جاری اس درندگی کیخلاف ہماری زبانیں گنگ

مجھے یہ لکھتے ہوئے عجیب تکلیف کا سامنا ہے اور دعا ہے کہ یہ جھوٹ ہی ہو مگر سچ یہی ھے اس معاشرے کو دیمک 
اندر تک چاٹ چکی ہے

ہم صرف اور صرف"میں" کا بوجھ اٹھائے زندہ ہیں


وہ معاشرہ جو اپنے آپ کو مغرب سے کہیں بہتر کہتا ہو اور اسلام کا گہوارہ ، ریاستِ مدینہ کہلوانے پر مصر ہو اُس معاشرے میں اگر یکے بعد دیگرے زینب و فرشتہ جیسے واقعات رونما ہوں تو میں یہی کہوں گا کہ اس معاشرے کے علماء یا تو نہایت منافق و بےاثر زبان کے مالک ہیں جن کی تبلیغ کانوں سے نیچے نہیں جاتی یا پھر  انسانیت کا دین سے کوئی سروکار نہیں اور ایک لادین معاشرہ دراصل اسلام کی اصل روح کا پاسبان ھے
ہم تو فقط لفظوں کی حد تک "ٹھیکہ دارانِ اسلام" ہیں 

ایک اسلامی معاشرہ ،مسجدوں مدرسوں سے محصور ملک میں بھی معصوم کی آہ و بکا سننے والا کوئی نہیں


 ساہیوال میں کنبہ بھون دیا جاتا ہے حاکمِ وقت کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی  ہم بحیثیت قوم و معاشرہ اخلاقی و سماجی پستی کی اُن گہرائیوں کو چُھو رہے جس میں بہتری ہوتی نظر نہیں آتی...

سلام ہے مغرب کے اُس معاشرے کو جہاں مسلمان بیٹیوں کی عزتیں محفوظ ہیں اور لعنت ھے ایسے اسلامی معاشرے پر جہاں مسلمانوں کی بیٹیاں ہی لوٹی جاتی ہیں اور کہا جاتا ھے وہ تو "افغانی" تھی 


ہم یہاں اپنی بیٹیوں کی عصمتیں خود ہی تار تار کرنے میں مصروف ہیں اور یہ عمل کرنے کیبعد ہم کہتے ہیں وہ تو پاکستانی تھی ہی نہیں

ظالمو!  انسان تو تھی ؟؟



No comments:

Post a comment