Saturday, 24 April 2021

دین احساس کا نام ہے یا مسلمانیت کا؟

‏میں تب بھی افسردہ ہوتا ہوں جب کشمیر میں کسی مسلمان عورت کی بھارتی فوج کے ہاتھوں عصمت دری ہوتی یے

مجھے تب بھی دکھ ہوا جب دولتِ اسلامیہ کے "مجاہدوں" کے ہاتھوں یزیدی عورتیں حاملہ ہوئیں ، مجھے فلسطین میں یہودیوں کے ہاتھوں غزہ کی پٹی میں محصور مسلمانوں کا بھی درد ہے 

‏مجھے چائنہ کے ہاتھوں ایغور مسلمانوں کے استحصال پر بھی دکھ ہوتا ہے

مجھے ہزارہ قوم کی لاشیں دیکھ کر بھی رونا آتا ہے اور شام میں انسانیت کو پامال ہوتے دیکھ کر بھی رنج ہوتا ہے


مجھے یمن میں سعودی حکومت کے عتاب کا نشانہ بنتے یمنی بچوں کا بھی درد محسوس ہوتا ہے 


‏اور اب میں ہندوستان میں کرونا کی وبا میں مبتلا ہندووں کی کسمپرسی اور اموات دیکھ کر بھی شدید رنجیدہ ہوا


شمشان گھاٹ شاید اتنے کربناک کبھی نہیں دکھے ہوں جتنے اب دِکھے


کیا میری مسلمانیت ہندووں کی ایسی اموات دیکھ کر رنجیدہ ہونے پر قائم رہی ہو گی؟


معلوم نہیں , مگر ‏ہمارا تو حاصلِ زندگی ہی احساس ہے


کئی جید علماء کرونا کے آغاز میں یہ دعا مانگ رہے تھے کہ 

"اے اللہ مشرکین کی طرف اس کا رُخ موڑ دے اور اُن کا بیڑہ غرق فرما"


مگر رب کی "کُن" کو بھی شاید کچھ اور منظور تھا


‏خادم رضوی مرحوم نے تو یہ تک فرمایا کہ چین پر مسلمانوں کے اوپر مظالم کیوجہ سے یہ عزاب ہے اور اِن کا خانہ خراب ہو گا


پھر یہ ہوا کہ یہ وبا اسرائیل کے یہودیوں کا تو کچھ نہیں بگاڑ سکی البتہ یورپی لادینیوں کو تہ و تیغ کر ڈالا


‏اے تمام جہانوں کے پالنے والے رب 

 اے رحمت اللعالمین کے رب 

مجھے معاف فرمانا کہ مجھ سے کسی بھی

 "ذی رُوح" کی تکلیف نہیں دیکھی جاتی ، چاہے وہ حشرات الارض ہو یا اشرف المخلوقات ہو


چاہے وہ تیری عبادت کرنے والا صالح ہو یا 

بھگوان پر چڑھاوے چڑھانے والا کافر ہو


‏اے ربِ ابراہیم رحم فرما

ہم سب پر ، کافر پر پہلے اور مجھ عاصی پر بعد میں

 کیونکہ تُو تو تمام جہانوں کا رب ہے!

یا ربنا ارحم لنا




No comments:

Post a comment